Showing posts with label خبریں. Show all posts
Showing posts with label خبریں. Show all posts

Wednesday, 5 March 2014

بیمار ذہنیت



کولمبس کو ایک عیسائی فرقہ پرست بادشاہ فرڈیننڈ نے مہم پر بھیجا تھا۔ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے اسپین میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کو صلیبی جنگیں کرکے ختم کیا تھا۔ کولمبس جس بحری جہاز پر نکلا اس میں مسلمانوں کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔ وہ مسلمان سائنسدان کے ایجاد کیے ہوئے اصطرلاب (astrolabe) کو راستہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ کسی عیسائی نے اسے یہ طعنہ نہیں دیاکہ تم کافروں (عیسائیوں کےنزدیک کافروں بالاصل:مسلمانوں)کی ٹیکنا لوجی کیوں استعمال کرتے ہو؟ پورے یورپ میں مسلمانوں کی ملوں کا کپڑا، مسلمانوں کے کارخانوں کی مصنوعات، مسلمان ڈاکٹر وں کے طریقۂ علاج اور مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات آٹھ سو سال تک استعمال ہوتی رہیں۔کسی عیسائی نے یہ اپنے بڑوں کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم چھ سو سال سے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگیں لڑ رہے ہو لیکن جب تمہیں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے تو ابوالقاسم الزہراوی کے ڈیزائن کیے ہوئے سرجری کے آلات کیوں استعمال کرتے ہو؟ ان کافروں (عیسائیوں کےنزدیک کافروں بالاصل:مسلمانوں)کے خلاف اگر تمہیں اتنا ہی جوش آتا ہے تو اپنے دانت نکلوانے کے لیے ایک ایجاد خود کیوں نہیں کرلیتے؟؟یہ بیمار ذہنیت ہمارے ہی معاشرے کے چند لوگوں کے حصے میں آئی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب مسلمان کمپیوٹر کو ہاتھ لگادے تو اس کے بعد اسے ان کافروں کے خلاف ایک بات بھی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جو روزانہ ڈرون سے بمباری کرتے ہیں اور غزہ میں مسلمانوں کو دیوار کے پیچھے بند کرکے ان کا پانی، گیس ، تیل ، خوراک بند کرکے پانچ سال سے انہیں بھوکا مارنے پر تلے ہوئےہیں۔ اگر آپ نے موبائل استعمال کرلیا ہے تو پھر ان کے مطابق افغانستان ، عراق، صومالیہ، برما ، بنگلہ دیش اور مالی میں ان کے قتلِ عام پر بات کرنا منع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ فریج استعمال کرتے ہیں تو چیچنیا کا نام مت لیں اور اگر خدانخواستہ آپ مائیکرو ویو اوون میں چیزیں گرم کرنے کی عیاشی کرلیتے ہیں تو پھر مشرقی ترکستان کا نام بھی نہ لیں۔ اگر عراق میں عبیر قاسم کی جگہ ان میں سے کسی کی بیٹی ہوتی جسے امریکی فوجیوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور پھر اس کی لاش کو آگ لگا دی تھی تو پھر ان سے کہاجاتا کہ جب تک تم خود پستول اور بم نہیں بنا لیتے تب تک تمہیں اپنی بیٹی کے ساتھ کی گئی زیادتی اور قتل کا بدلہ لینے کی کوئی اجازت نہیں تو انہیں کیسا محسوس ہوتا۔یہ مغرب سے اتنے زیادہ مرعوب(impressed)ہیں کہ اس کے جرم کو جرم کہنا بھی انہیں زبان پر بھاری لگتا ہے۔یہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ یہ یہاں کیوں پیدا ہو گئے!امریکا ،اسرائیل یا برطانیہ میں پیدا کیوں نہیں ہوئے!یہ اپنی قوم میں سے ہونا ہی نہیں چاہتے اسی لیےیہ لوگ اپنے اِس احساسِ کمتری کو اپنی ہی قوم کو طعنے ، گالیاں اور کوسنے دے دے دور کرتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشکل اور مصیبت کے وقت میں یہ اپنی امت کو آگے بڑھ کر سہارا دیتے ، اس کے زخموں ہر مرہم رکھتے ، اس کے آنسوؤں کو پونچھتے اور اس کی ہمت بندھاتے الٹا یہ لوگ ان لوگوں کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق اس امت کو سہارا دینے کی کوششوں میں ہیں۔ آخر یہ لوگ کس کے سپاہی ہیں ؟ یہ کس کے مورچے میں ہیں؟؟

پائتھووائرس تیس ہزار سال بعد لیبارٹری میں دوبارہ زندہ ہوگیا


 
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) تیس ہزار سال بعد پائتھووائرس نامی ایک جرثومہ زندہ ہوگیاجو اب تک پایاجانے والا سب سے بڑا وائر س ہے ، اس کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وائرس کو کم از کم 30 ہزار سال تک خوابیدہ رہنے کے بعد حیات نو بخشی گئی ہے۔فرانسیسی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس سائبیریا کے برفیلے علاقے میں برف کی دبیز گہری سطح کے نیچے منجمد پایا گیا تھا لیکن جب اسے وہاں سے نکال کر گرمی ملی تو ایک بار پھر سے یہ وبائی اور متعدی بن گیا، وائرس سے انسانوں اور جانوروں کو وبائی خطرہ لاحق نہیںتاہم اگر اس علاقے سے برف کی چادریں ہٹیں اور زمین کھلی تو دوسرے وائرس پھیل سکتے ہیں۔سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ قدیمی وبائی جرثومہ منجمد سطح کے 100 فیٹ نیچے دبا ہوا تھا جسے ’پائتھو وائرس سائبیریکم‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ ان بڑے جراثیم کے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جنہیں دس سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ وائرس خلیے میں داخل ہوتا ہے اور کئی خلیوں میں تقسیم کرکے بالآخر اسے مار ڈالتا ہے،یہ امیبا کو مارنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن یہ انسانی خلیوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔ماہرین کاکہناتھاکہ یہ جراثیم اتنے بڑے ہیں کہ دوسرے جراثیم کے مقابلے میں خوردبین سے نظر آتے ہیں اور پائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے، اس نے کم از کم 30 ہزار سال قبل کسی چیز کو اپنے وبائی اثرات سے متاثر کیا تھا لیکن تجربہ گاہ میں یہ ایک بار پھر سے جی اٹھا۔