Saturday, 15 March 2014
سلطان محمود غزنو ی کا تاریخی انصاف
ایک دن سلطان محمود غزنو ی حسبِ معمول دربا رمیں بیٹھا ہوا تھا ۔ وزرا ءو امرا ءدست بستہ حاضر تھے۔ عام لو گ اپنی اپنی عرضیا ں پیش کر رہے تھے اور ایک شخص نے آکر عرض کی ” میر ی شکا یت نہا یت سنگین ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے بر سرِ دربار عرض نہیں کر سکتا “ سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت میں لیجا کر پو چھا کہ تمہیں کیا شکا یت ہے ؟
سائل نے عر ض کیا ایک عرصے سے بندگا نِ عالی کے بھانجے نے یہ طر یقہ اختیا رکر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پرآتا ہے اور مجھے ما رپیٹ کر با ہر نکال دیتا ہے اور خود جبراًمیرے گھر میں شب بھر داد عیش دیتا ہے ۔ غزنی کی کوئی عدا لت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریا د نہ کی ہو لیکن کسی کو انصاف کر نیکی جرا ¿ت نہیں ہوئی ۔ جب میںہر طر ف سے ما یو س ہو گیا تو آج مجبو راً جہا ں پنا ہ کی بار گاہ ِ عالیہ میں انصاف کے لیے حاضر ہو اہو ں ۔ شہنشاہ عالی کی بے لا گ انصاف پر وری ، فر یا د رسی اور رعا یا سے بے پنا ہ شفقت پر بھروسہ کر کے میںنے اپنا حال عرض کر دیا ہے۔ خالق حقیقی نے آپکو اپنی مخلو ق کا محافظ و نگہبان بنا یا ہے ۔ قیا مت میں رعایا اور کمزوروں پر مظا لم کے نتیجے میں آپ خدائے قہا ر کے رو برو جوا بدہ ہو نگے اگر آپ نے میرے حال پر رحم فرما کر انصاف کیا تو بہتر ہے ورنہ میں اس معاملے کو منتقم حقیقی کے سپرد کر کے اس کے رو بر و عنا یت فیصلہ تک انتظا ر کر ونگا۔
سلطا ن ِ محترم پر اس واقعہ کا اتنااثر ہوا کہ وہ بے اختیار آبدیدہ ہو گئے اور سائل سے کہا ” تم سب سے پہلے میرے پا س کیو ں نہ آئے ؟ تم نے نا حق ابتک یہ ظلم کیوں بر داشت کیا؟ “ سائل نے عرض کیا ” میں عرصے سے اس کو شش میں لگا ہو ا تھا کہ کسی طر ح با رگا ہ سلطا نی تک پہنچ جا ﺅ ں مگر در بانو ں اور چوبداروں کی قدغن نے کا میا ب نہ ہو نے دیا ۔ خد اتعالیٰ ہی جا نتا ہے کہ آج بھی کس تدبیر سے یہا ں تک پہنچا ہو ں ۔مجھ جیسے غریبو ں اور مظلو مو ں کو یہ با ت کہا ں نصیب ہے کہ جب چا ہیں بے دھڑک دربا رِ سلطانی میں حاضر ہو جائیں اور سلطا ن کو اپنے دردِ دل کی کہانی سنا سکیں۔ “
سلطان نے سائل کو اطمینا ن اور دلا سہ دے کر تا کید کی کہ ”اس ملاقات اور گفتگو کا کسی سے ذکر نہ کر نا اور جس وقت بھی وہ شخص تمہا رے گھر آئے اسی وقت مجھے اس کی اطلا ع کر دینا ۔ میں اس کو ایسی عبر ت نا ک سزا دونگا کہ آئندہ دوسروں کو ایسے مظالم کرنیکی کی جر ا ¿ت نہ ہو سکے گی ۔ “
سائل نے عرض کیا ” مجھ ایسے بے کس و بے یا ر و مدد گار کے لیے یہ کیونکر ممکن ہو سکے گا کہ جب چاہو ں بلا کسی مزاحمت کے خدمتِ سلطانی میں حاضر ہو جا ﺅ ں اور مطلع کر سکو ں۔“ سلطان نے یہ سن کر دربانو ں کو طلب کیا اور سائل کو ان سے روشنا س کر ا کے حکم دیا ۔ ’ ’یہ شخص جس وقت بھی آئے ہما رے پا س پہنچا دیا جائے اور کسی طر ح کی مزاحمت نہ کی جائے ۔ “ دو را تیں گزر گئیں مگر سائل نہ آیا ۔ سلطان کو تشویش ہو ئی کہ نہ معلوم غر یب مظلو م کو کیا حادثہ پیش آیا ۔ وہ اسی فکر میں پریشا ن تھا کہ تیسری رات کو سائل دوڑتا ہو ا آستانہ شاہی پر پہنچا ۔
اطلا ع ملتے ہی سلطان فی الفور با ہر نکلا اور سائل کے ہمراہ اسکے گھر پہنچ کر اپنی
آنکھو ں سے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو سائل نے اسے بتلا یا تھا ۔ پلنگ کے سر ہا نے شمع جل رہی تھی ۔ سلطان نے شمع گل کر ادی اور خود خنجر نکال کر اس کا سر اڑا دیا ۔ اس کے بعد شمع روشن کرائی مقتول کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ سلطان کی زبان سے الحمد اللہ نکلا اور پھر سائل سے کہا کہ تم اطمینان سے اپنے گھر میں آرام کر و ۔ اب انشا ءاللہ عزوجل تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی ۔ میری وجہ سے اب تک تم پر جو مظالم ہو ئے خدا کے لیے انہیں معا ف کر دو ۔ “
یہ کہہ کر سلطا ن عالی وقارر خصت ہونا ہی چا ہتا تھا کہ سائل نے دامن پکڑ کر عرض کیا بند گانِ عالی نے جس طر ح ایک مظلو م کیسا تھ انصاف فر مایا حتی کہ اپنی قرابت داری و خو ن کا بھی مطلق خیال نہ کیا، اللہ تعالیٰ آپ کو اسکی جزائے خیر عطا فرمائے او ر اجر عظیم عنا ئت فرمائے ۔ اگر اجا ز ت مر حمت فر مائی جائے تو ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہو ں وہ یہ کہ آپ نے پہلے شمع گل کرا ئی اور پھر روشن کرا کر مقتول کا سر دیکھ کر الحمد اللہ فرما یا اور اس کے فوراً بعد پانی طلب فرمایا ا سکا کیا سبب تھا ؟
سلطان نے ہر چند ٹالنا چاہا مگر سائل کے اصرار پر اسے بتلا نا پڑا ۔ ” شمع گل کرنیکا مقصد یہ تھا کہ مبا دا روشنی میں اس کا چہرہ دیکھ کر بہن کے خون کی محبت مجھے سز ا دینے سے با ز رکھے اور الحمد اللہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ مقتول اپنے آپ کو میرا بھا نجا بتا کر تمہیں شا ہی تعلق سے مر عو ب کر کے اپنی خوا شاتِ نفسا نی کو پورا کرنے کے لیے را ستہ صاف رکھنا چاہتا تھا ۔ خدا وند کریم کا ہزار ہا شکرہے کہ محمو د کے متعلقین کا اس شرمنا ک بے ہو دگی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پانی مانگنے کی وجہ یہ تھی کہ جب سے تم نے اپنا وا قعہ سنا یا تھا میں نے عہد کر لیا تھا کہ جب تک تمہا را انصاف نہ کر لو نگا آب و دانہ مجھ پر حرا م ہے ۔ اب چو نکہ میں اپنے فر ض سے سبکدوش ہو چکا تھا اور تشنگی کا شدید غلبہ تھا اس لیے میں پانی مانگنے پر مجبو رہو گیا —
Thursday, 13 March 2014
یہ وقت بھی گزر جائے گا
س کو سمجھنا بہت ضروری ہے:ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز ، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔
قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قری…ب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا ” یہ وقت بھی گزر جائے گا” ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔!
بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔ ۔۔ ۔ کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔ اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پہ اور سلطنت پہ تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ ” یہ وقت بھی گزر جائے گا” ۔ ۔ ۔ ۔
Wednesday, 5 March 2014
ایک پروفیسر اپنی فلاسفی کی کلاس میں طلباء کے سامنے کھڑے تھے
ایک
پروفیسر اپنی فلاسفی کی کلاس میں طلباء کے سامنے کھڑے تھے پروفیسر صاحب کے
سامنے میز پر چند چیزیں پڑی تھیں۔۔پروفیسر صاحب نے بنا کچھ کہے سامنے میز
سے شیشے کا جگ اٹھایا اور اس میں چھوٹی چھوٹی گیندیں ڈالنی شروع کر دیں
یہاں تک کہ جگ بھر دیا۔۔انھوں نے کلاس سے پوچھا
"کیا جگ بھر گیا؟"
جی جناب! بھر گیا۔۔۔کلاس کے تمام طلبا ء نے یک زبان جواب دیا
اس کے بعد پروفیسر صاحب نے کنکریوں سے بھرا باکس اٹھایا اور تمام
کنکریاں جگ میں ڈال دیں اور جگ کو تھوڑا سا ہلایا۔۔۔کنکریاںگیندوں کے
درمیاں موجود خلاء میں بیٹھ گئیں۔پروفیسر صاحب نے پھر کلاس سے پوچھا
"جگ بھرا ہے نا؟"
کلاس نے پھر اثبات میں جواب دیا
اب پروفیسر صاحب نے ریت کا ڈبہ اٹھایا اور جگ میں ڈال دیا ۔۔ریت نے کون سا
پہلے والی چیزوں کو باہر نکالنا تھا ریت ان چیزوں پر جا کر بیٹھ گئی۔۔
پروفیسر صاحب نے وہی سوال پوچھا
"جگ بھرا ہے نا؟"
اس بار بھی جواب ہاں میں ہی تھا
اب پروفیسر صاحب نے دو عدد جوس کے ڈبے نکالے اور جگ میں انڈیل دیے۔۔جوس کے
ڈبے میں موجود جوس ریت میں جذب ہو گیا۔۔۔ایک بھی قطرہ باہر نہ گرا
تمام طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔
اب پروفیسر صاحب گویا ہوئے
"یہ جگ آپ کی زندگی ہے اور چھوٹی چھوٹی گیندیں آپ کی زندگی کے اہم حصے ہیں
جیسے آپ کی فیملی،آپ کے دوست،آپ کے اہم شوق اور آپ کی صحت وغیرہ۔۔اگر باقی
ہر چیز کھو جائے لیکن یہ چیزیں آپ کے پاس موجود ہوں تب بھی آپ کی زندگی
مکمل ہے جیسے صرف گیندوں سے ہی جگ مکمل تھا۔۔"
پروفیسر صاحب نے بات جاری رکھی
"کنکریاں آپ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں جیسی نوکری،گھر اور گاڑی
وغیرہ اور ریت آپ کی زندگی کے باقی وہ تمام حصے جو ان چیزوں کے علاوہ
ہیں۔۔۔اگر آپ جگ میں ریت پہلے رکھتے تو گیندوں اور کنکریوں کے لیے جگہ نہ
بچتی زندگی میں بھی ایسا ہی ہے اگر آپ پہلے غیر اہم چیزوںکو سامنے رکھیں گے
تو اہم چیزوں کے لیے آپ کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ہمیشہ ان چیزوں
پر پہلے توجہ دیں جو آپ کی حقیقی خوشیاں ہیں۔"
انھوں نے بات جاری رکھی
"
۔اپنے بچوں ،اپنی بیوی اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریں۔بیوی بچوں کو باہر
کھانے پر لے کر جائیں۔کھیل کے لیے وقت نکالیں ۔۔کبھی کبھی گھر کے کاموں میں
بیوی کی مدد کریں۔
چھوٹی چھوٹی گیندوں کی جانب پہلے توجہ دیں انھیں
پہلے جگ میں ڈالیں یعنی اپنی زندگی کی ترجیحات پر نظر دوڑائیں اور اہم
چیزوں کو پہلے سامنے رکھیں اور ریت کو بعد میں رکھیں غیر اہم چیزوں کو بعد
میں رکھیں۔"
ایک طالب علم نے ہاتھ بلند کیا
"سر میرا ایک سوال ہے گیند،کنکریاں اور ریت کا تو پتا چل گیا لیکن یہ جوس کے ڈبوں کا ہماری زندگی میں کیا کردار ہے؟"
"مجھے بہت خوشی ہوئی کہ تم نے یہ سوال کیا"۔۔پروفیسر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
"جوس کے دو ڈبوں نے بھرے ہوئے جگ میں جذب ہو کر دکھا دیا کہ آپ کی زندگی
کتنی ہی مکمل یا کتنی ہی مصروف کیوں نا ہو پھر بھی آپ کے پاس دو گھڑی
دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر جوس پینے کا وقت نکل ہی آتا ہے۔"
بیگم صبح صبح کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی
بیگم صبح صبح کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی ۔ شوہر کچن میں داخل ہوا اور تیز لہجے میں بولنا شروع ہوگیا،
" بیگم پلیز جلدی کرو۔ اور دھیان سے انڈے فرائی کرو۔ فرائی پین میں تھوڑا سا مکھن تو ڈال لو ۔ انڈے جھلس جائیں گے۔ بیگم پلیز دھیان کرو۔ انڈوں کی سائیڈ تو تبدیل کرو۔ اب مکھن ڈالو ۔ پلیز آنکھیں کھلی رکھو۔ ابھی صرف دو انڈے ۔ پہلے والے تو فرائی کرلو۔ باقی بعد میں توڑنا۔ بیگم ۔ پلیز دھیان سے آگے دیکھو۔چولہا تھوڑا آہستہ کر لو۔ انڈے جھلس جائیں تو مزہ جاتا رہتا ہے۔ پلیز مکھن ڈالو ۔۔ "
بالآخر بیوی کا برداشت کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ غصہ سے مڑی، شوہر کو لال آنکھوں سے گھورا اور فرائی پین پٹخ کر بولی ۔۔
" تم کیا سمجھتے ہو مجھے 4 انڈے فرائی کرنے نہیں آتے ۔۔۔؟"
شوہر مسکرا پڑا اور مطمئن لہجے میں بولا،
" میں صرف تمھیں یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے میرے اعصاب پر کیا گذرتی ہے "
بیمار ذہنیت
کولمبس کو ایک عیسائی فرقہ پرست بادشاہ فرڈیننڈ نے مہم پر بھیجا تھا۔ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے اسپین میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کو صلیبی جنگیں کرکے ختم کیا تھا۔ کولمبس جس بحری جہاز پر نکلا اس میں مسلمانوں کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔ وہ مسلمان سائنسدان کے ایجاد کیے ہوئے اصطرلاب (astrolabe) کو راستہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ کسی عیسائی نے اسے یہ طعنہ نہیں دیاکہ تم کافروں (عیسائیوں کےنزدیک کافروں بالاصل:مسلمانوں)کی ٹیکنا لوجی کیوں استعمال کرتے ہو؟ پورے یورپ میں مسلمانوں کی ملوں کا کپڑا، مسلمانوں کے کارخانوں کی مصنوعات، مسلمان ڈاکٹر وں کے طریقۂ علاج اور مسلمان سائنسدانوں کی ایجادات آٹھ سو سال تک استعمال ہوتی رہیں۔کسی عیسائی نے یہ اپنے بڑوں کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم چھ سو سال سے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگیں لڑ رہے ہو لیکن جب تمہیں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے تو ابوالقاسم الزہراوی کے ڈیزائن کیے ہوئے سرجری کے آلات کیوں استعمال کرتے ہو؟ ان کافروں (عیسائیوں کےنزدیک کافروں بالاصل:مسلمانوں)کے خلاف اگر تمہیں اتنا ہی جوش آتا ہے تو اپنے دانت نکلوانے کے لیے ایک ایجاد خود کیوں نہیں کرلیتے؟؟یہ بیمار ذہنیت ہمارے ہی معاشرے کے چند لوگوں کے حصے میں آئی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب مسلمان کمپیوٹر کو ہاتھ لگادے تو اس کے بعد اسے ان کافروں کے خلاف ایک بات بھی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جو روزانہ ڈرون سے بمباری کرتے ہیں اور غزہ میں مسلمانوں کو دیوار کے پیچھے بند کرکے ان کا پانی، گیس ، تیل ، خوراک بند کرکے پانچ سال سے انہیں بھوکا مارنے پر تلے ہوئےہیں۔ اگر آپ نے موبائل استعمال کرلیا ہے تو پھر ان کے مطابق افغانستان ، عراق، صومالیہ، برما ، بنگلہ دیش اور مالی میں ان کے قتلِ عام پر بات کرنا منع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ فریج استعمال کرتے ہیں تو چیچنیا کا نام مت لیں اور اگر خدانخواستہ آپ مائیکرو ویو اوون میں چیزیں گرم کرنے کی عیاشی کرلیتے ہیں تو پھر مشرقی ترکستان کا نام بھی نہ لیں۔ اگر عراق میں عبیر قاسم کی جگہ ان میں سے کسی کی بیٹی ہوتی جسے امریکی فوجیوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور پھر اس کی لاش کو آگ لگا دی تھی تو پھر ان سے کہاجاتا کہ جب تک تم خود پستول اور بم نہیں بنا لیتے تب تک تمہیں اپنی بیٹی کے ساتھ کی گئی زیادتی اور قتل کا بدلہ لینے کی کوئی اجازت نہیں تو انہیں کیسا محسوس ہوتا۔یہ مغرب سے اتنے زیادہ مرعوب(impressed)ہیں کہ اس کے جرم کو جرم کہنا بھی انہیں زبان پر بھاری لگتا ہے۔یہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ یہ یہاں کیوں پیدا ہو گئے!امریکا ،اسرائیل یا برطانیہ میں پیدا کیوں نہیں ہوئے!یہ اپنی قوم میں سے ہونا ہی نہیں چاہتے اسی لیےیہ لوگ اپنے اِس احساسِ کمتری کو اپنی ہی قوم کو طعنے ، گالیاں اور کوسنے دے دے دور کرتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشکل اور مصیبت کے وقت میں یہ اپنی امت کو آگے بڑھ کر سہارا دیتے ، اس کے زخموں ہر مرہم رکھتے ، اس کے آنسوؤں کو پونچھتے اور اس کی ہمت بندھاتے الٹا یہ لوگ ان لوگوں کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق اس امت کو سہارا دینے کی کوششوں میں ہیں۔ آخر یہ لوگ کس کے سپاہی ہیں ؟ یہ کس کے مورچے میں ہیں؟؟
پائتھووائرس تیس ہزار سال بعد لیبارٹری میں دوبارہ زندہ ہوگیا
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) تیس ہزار سال بعد پائتھووائرس نامی ایک جرثومہ زندہ ہوگیاجو اب تک پایاجانے والا سب سے بڑا وائر س ہے ، اس کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وائرس کو کم از کم 30 ہزار سال تک خوابیدہ رہنے کے بعد حیات نو بخشی گئی ہے۔فرانسیسی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس سائبیریا کے برفیلے علاقے میں برف کی دبیز گہری سطح کے نیچے منجمد پایا گیا تھا لیکن جب اسے وہاں سے نکال کر گرمی ملی تو ایک بار پھر سے یہ وبائی اور متعدی بن گیا، وائرس سے انسانوں اور جانوروں کو وبائی خطرہ لاحق نہیںتاہم اگر اس علاقے سے برف کی چادریں ہٹیں اور زمین کھلی تو دوسرے وائرس پھیل سکتے ہیں۔سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ قدیمی وبائی جرثومہ منجمد سطح کے 100 فیٹ نیچے دبا ہوا تھا جسے ’پائتھو وائرس سائبیریکم‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ ان بڑے جراثیم کے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جنہیں دس سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ وائرس خلیے میں داخل ہوتا ہے اور کئی خلیوں میں تقسیم کرکے بالآخر اسے مار ڈالتا ہے،یہ امیبا کو مارنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن یہ انسانی خلیوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔ماہرین کاکہناتھاکہ یہ جراثیم اتنے بڑے ہیں کہ دوسرے جراثیم کے مقابلے میں خوردبین سے نظر آتے ہیں اور پائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے، اس نے کم از کم 30 ہزار سال قبل کسی چیز کو اپنے وبائی اثرات سے متاثر کیا تھا لیکن تجربہ گاہ میں یہ ایک بار پھر سے جی اٹھا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)





